پاکستانی کھانوں میں دل کو نقصان پہنچانے والی چیزیں
پاکستانی کھانے اپنے منفرد ذائقے اور مسالوں کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی پکوانوں میں ایسے اجزاء کثرت سے موجود ہوتے ہیں جو قلبی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان مخصوص اجزاء اور پکوانوں کا جائزہ لیتے ہیں جن سے دل کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
گھی اور ونسپتی: سیچوریٹڈ اور ٹرانس فیٹ کا بڑا ذریعہ
پاکستانی گھروں میں کھانا پکانے کے لیے سب سے زیادہ گھی اور ونسپتی استعمال کیا جاتا ہے۔ گائے کے گھی میں ۶۵ فیصد تک سیچوریٹڈ فیٹ ہوتی ہے جبکہ ونسپتی (ہائیڈروجنیٹڈ سبزیوں کا تیل) میں ٹرانس فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ٹرانس فیٹ خون میں برے کولیسٹرول (LDL) کو بڑھاتی ہے اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کو کم کرتی ہے، جس سے دل کی بیماری کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
بریانی اور پلاؤ: پوشیدہ کیلوریز
بریانی پاکستان کا سب سے مقبول پکوان ہے۔ ایک عام سرونگ (۳۰۰ گرام) بریانی میں تقریباً ۴۵۰–۵۵۰ کیلوریز ہوتی ہیں، جن میں ۲۰–۲۵ گرام تک چکنائی شامل ہو سکتی ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا گھی، تلا ہوا پیاز اور گوشت مل کر سیچوریٹڈ فیٹ کی کافی مقدار فراہم کرتے ہیں۔
بریانی میں موجود مسائل:
- تلے ہوئے پیاز میں اضافی چکنائی
- گھی یا تیل کی بڑی مقدار
- گوشت (بالخصوص بکرے کا) میں زیادہ سیچوریٹڈ فیٹ
- نمک کی عموماً زیادہ مقدار
نہاری اور پائے: فیٹی ایسڈز کا ارتکاز
نہاری اور پائے جیسے پکوانوں میں ہڈیوں کا گودہ اور چربی دار گوشت استعمال ہوتا ہے۔ ہڈیوں کے گودے میں سیچوریٹڈ فیٹ اور کولیسٹرول کی کافی مقدار ہوتی ہے۔ ایک کٹورا نہاری میں تقریباً ۳۰–۴۰ گرام کل چکنائی ہو سکتی ہے، جو روزانہ کی تجویز کردہ حد کا نصف سے زیادہ ہے۔
ماہرین کا نکتہ نظر
ڈاکٹر شاہد رضا (آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، کراچی) کے مطابق پاکستانی مریضوں میں کورونری آرٹری ڈیزیز کی ایک بڑی وجہ سیچوریٹڈ فیٹ کا زیادہ استعمال ہے۔ روایتی پکوانوں کو مکمل چھوڑنا ضروری نہیں لیکن مقدار اور طریقہ پکانے میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
تلی ہوئی اشیاء: سموسے، پکوڑے اور پراٹھے
چائے کے ساتھ کھائے جانے والے سموسے اور پکوڑے یا ناشتے میں پراٹھا — یہ سب گہرے تیل میں تلی ہوئی اشیاء ہیں۔ جب تیل کو بار بار گرم کیا جاتا ہے تو اس میں آکسیڈائزڈ مرکبات بنتے ہیں جو شریانوں کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
گہرے تیل میں تلنے کے خطرات:
- ایک بار استعمال شدہ تیل دوبارہ گرم کرنے سے ٹرانس فیٹ بنتی ہے
- میدہ (ریفائنڈ آٹا) سے بنی اشیاء گلیسیمک انڈیکس بڑھاتی ہیں
- کیلوریز کا بھاری بوجھ بغیر غذائی فائدے کے
کیا ان پکوانوں سے مکمل پرہیز کرنا ہوگا؟
ماہرین غذائیت ان پکوانوں کو مکمل ترک کرنے کی بجائے انہیں کبھی کبھار، کم مقدار میں اور پکانے کے طریقے میں ردوبدل کے ساتھ کھانے کی تجویز دیتے ہیں۔ مثلاً گھی کی مقدار کم کرنا، گوشت کے ساتھ ریشے دار سبزیاں شامل کرنا اور ہفتے میں دو تین بار سے زیادہ نہ کھانا بہتر نتائج دیتا ہے۔
ذرائع: عالمی ادارہ صحت — قلبی امراض | امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن — ٹرانس فیٹ