پاکستان میں فی کس نمک کا اوسط روزانہ استعمال ۱۰ سے ۱۲ گرام تک ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد صرف ۵ گرام فی یوم ہے۔ یہ دگنا یا اس سے زیادہ مقدار خاموشی سے بلڈ پریشر بڑھاتی ہے اور قلبی امراض کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

کہاں سے آتا ہے یہ زیادہ نمک؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نمک صرف کھانا پکاتے وقت ڈالا گیا نمک ہے۔ لیکن سوڈیم کے بہت سے پوشیدہ ذرائع ہیں جن کا احساس نہیں ہوتا:

روایتی اچار اور چٹنیاں

پاکستانی گھروں میں بنائے جانے والے اچار میں ایک کھانے کے چمچ میں ۳۰۰ سے ۵۰۰ ملی گرام سوڈیم تک ہو سکتا ہے۔ آم کا اچار، لیموں کا اچار اور گاجر مولی کا اچار — یہ سب تحفظ کے لیے بڑی مقدار میں نمک سے بنائے جاتے ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۴۵ سال سے اوپر کے تقریباً ۳۰ فیصد مرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور ان میں سے اکثریت زیادہ نمک والی خوراک استعمال کرتی ہے۔

بازاری کھانے اور فاسٹ فوڈ

شہروں میں ریستورانوں اور ڈھابوں کے کھانوں میں نمک کی کوئی پیمائش نہیں کی جاتی۔ ایک پلیٹ چاول اور سالن میں آسانی سے ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ ملی گرام سوڈیم آ سکتا ہے، جو روزانہ کی حد کا ایک تہائی یا نصف ہے۔

پیکڈ اور پروسیسڈ کھانے

چپس، بسکٹ، نوڈلز اور ڈبہ بند اشیاء میں سوڈیم کا اضافہ ذائقے اور تحفظ دونوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک سرونگ انسٹنٹ نوڈلز میں ۸۰۰ سے ۱۲۰۰ ملی گرام سوڈیم ہو سکتا ہے۔

نمک اور بلڈ پریشر کا تعلق

سوڈیم خون میں پانی کو اپنے ساتھ روکتا ہے۔ اس سے خون کا حجم بڑھتا ہے اور شریانوں پر دباؤ زیادہ پڑتا ہے۔ طویل عرصے تک یہ دباؤ شریانوں کی اندرونی دیواروں کو نقصان پہنچاتا ہے اور ایتھروسکلیروسیس (چربی کے جمنے) کا راستہ کھولتا ہے۔

اہم اعداد و شمار

Lancet کے ایک مطالعے کے مطابق روزانہ نمک کی مقدار میں صرف ۲ گرام کمی کرنے سے سسٹولک بلڈ پریشر ۴ mmHg تک کم ہو سکتا ہے، جو دل کی بیماری کے خطرے میں ۸-۱۰ فیصد کمی کے برابر ہے۔

پاکستانی گھروں میں نمک کم کرنے کے عملی طریقے

  1. کھانا پکانے کے بعد اضافی نمک ڈالنے کی عادت بند کریں
  2. اچار اور چٹنی کی مقدار محدود کریں — روزانہ ایک چمچ سے زیادہ نہیں
  3. بازاری کھانا ہفتے میں ایک یا دو بار سے زیادہ نہ کھائیں
  4. پیکڈ اشیاء پر لیبل پڑھیں — ۶۰۰ ملی گرام سے زیادہ سوڈیم فی سرونگ والی چیزیں کم استعمال کریں
  5. نمک کی جگہ لیموں کا رس، لہسن اور دیگر مسالوں سے ذائقہ بڑھائیں
  6. پوٹاشیم سے بھرپور کھانے جیسے کیلا، پالک اور ٹماٹر کھائیں — یہ سوڈیم کے اثر کو کم کرتے ہیں

روایتی پاکستانی غذاؤں میں ترمیم

نمک کو یکدم ترک کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ذائقہ کی عادت بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ غذائی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہر ہفتے استعمال ہونے والے نمک کی مقدار ۱۰ فیصد کم کریں۔ تقریباً ۸–۱۰ ہفتوں میں ذوق نئی مقدار کا عادی ہو جاتا ہے۔